بغیر آپریشن یا مہنگی دواؤں کےرات کو بار بار باتھ روم جانے کی عادت کو ہمیشہ کے لیے کیسے ختم کیا جائے اور قدرتی طور پر مکمل مردانہ طاقت کیسے بحال کی جائے
پروسٹیٹ گلینڈ کیا ہے؟یہ مردوں میں ایک اخروٹ کے سائز کا غدود ہے جس کو عام طور پر غدہ قدامیہ بھی کہا جاتا ہے، جو مثانے کے نیچے پیشاب کی نالی کے اردگرد موجود ہوتا ہے۔اس کے بڑھ جانے سے مریض میں بہت سے مسائل نمودار ہوتے ہیں، جس میں خاص کر پیشاب کے اخراج کے مسائل شامل ہیں۔ پروسٹیٹ انلارجمنٹ صرف مردوں میں پائے جانے والا مرض ہے جس کو BPH (Benign Prostatic Hyperplasia) کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ گلینڈ مردوں میں اسپرم کی حرکت پذیری اور اسپرم کی بہتر صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے۔The most common prostate problem among men over age 50, this condition can cause annoying urination issues.2. پروسٹیٹ گلینڈ بڑھ جانے کی علامات (Symptoms of BPH)پروسٹیٹ گلینڈ کے بڑھ جانے (BPH) کی کچھ اہم علامات درج ذیل ہیں:1. پیشاب بار بار آنا، خاص طور پر رات کے وقت۔2. پیشاب کی دھار پتلی ہونا۔3. پیشاب رُک رُک کر آنا یا قطرہ قطرہ آنا۔4. پیشاب میں جلن یا خارش محسوس ہونا۔5. پیشاب شروع کرنے میں مشکل ہونا۔6. پیشاب کے بعد مثانہ مکمل خالی نہ ہونا۔7. پیشاب پر کنٹرول نہ رکھ پانا۔8. پیشاب مکمل بند ہو جانا۔9. رات کو پیشاب کے لیے بار بار جاگنا۔10. پیشاب شروع اور روکنے میں دشواری۔11. پیشاب کے دوران درد یا جلن۔12. پیشاب میں خون یا خون کے قطرے آنا۔
جب پروسٹیٹ سوجا ہوا یا "گندگی سے بھرا" ہو، تو یہ پیشاب کی نالی کو دباتا ہے اور پورے شرونی میں خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔ خون رک جاتا ہے، زہریلے مادے اکٹھا ہوتے ہیں اور پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ نتیجے میں نہ صرف جنسی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ گردے، دل اور یہاں تک کہ دماغ بھی۔یہی تیز بڑھاپے کا آغاز ہے۔ لیکن اس عمل کو روکا جا سکتا ہے! اگر باقاعدگی سے پروسٹیٹ کی "صفائی" کی جائے تو آدمی ۱۲۰ سال تک درد، بے خوابی اور بڑھاپے کی بے ہوشی سے بے خبر زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ نظریہ نہیں — حقیقت ہے۔ میرے وہ تمام مریض جنہوں نے اس اصول پر عمل کیا، اپنے ہم عمر لوگوں سے ۱۵ تا ۲۰ سال زیادہ جیے اور عمر کے آخر تک ذہانت برقرار رکھی۔یہ پروسٹیٹ کی آلودگی کے مراحل ہیں۔ اگر آپ نے کبھی اسے صاف نہیں کیا اور آپ کی عمر ۴۰ سال سے زیادہ ہے، تو آپ کا پروسٹیٹ بہت آلودہ ہے۔ یہ جلد ہی آپ کی صحت کو متاثر کرے گا، اگر پہلے سے نہیں کر چکا۔
پروسٹیٹ گلینڈ کے مسائل مردانہ طاقت کے لیے کس طرح نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں؟
پروسٹیٹ (Prostate) مرد کے تولیدی نظام کا ایک اہم غدود ہے، جو مثانے کے نیچے اور پیشاب کی نالی کے گرد موجود ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام ایک ایسا سیال (Prostatic Fluid) تیار کرنا ہے جو منی (Semen) کا اہم حصہ بنتا ہے اور سپرم کو غذائیت اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب پروسٹیٹ کسی بیماری یا خرابی کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات صرف پیشاب کے نظام تک محدود نہیں رہتے بلکہ مردانہ طاقت، ازدواجی زندگی، جنسی کارکردگی اور تولیدی صلاحیت پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
جنسی خواہش میں کمی
پروسٹیٹ کی دائمی سوزش، مسلسل درد، بار بار پیشاب آنے کی شکایت اور نیند میں خلل کی وجہ سے جسمانی و ذہنی تھکن پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض مردوں میں جنسی رغبت کم ہو سکتی ہے۔ یہ کمی خود بیماری، اس کے ذہنی دباؤ یا بعض اوقات استعمال ہونے والی ادویات سے بھی متعلق ہو سکتی ہے۔
(Erectile Function)نعوظ پر اثر
پروسٹیٹ کے گرد باریک اعصاب اور خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں جو عضوِ تناسل میں خون کی مناسب روانی اور نعوظ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ شدید سوزش، بعض جراحی طریقۂ علاج یا بعض ادویات ان اعصاب یا خون کی روانی کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے بعض مریضوں کو نعوظ برقرار رکھنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
انزال کے مسائل
پروسٹیٹ منی کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی بیماری کی صورت میں بعض افراد کو درج ذیل مسائل پیش آ سکتے ہیں:انزال کے دوران دردمنی کی مقدار میں کمیانزال میں تاخیر یا دشواریبعض علاج کے بعد ریٹروگریڈ ایجیکولیشن (Retrograde Ejaculation)، جس میں منی باہر آنے کے بجائے مثانے میں چلی جاتی ہے
سپرم کے معیار پر اثر
پروسٹیٹ کا سیال سپرم کی حرکت (Motility)، حفاظت اور بقا کے لیے اہم ہوتا ہے۔ اگر پروسٹیٹ میں سوزش یا انفیکشن ہو تو منی کے معیار اور سپرم کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے بعض افراد میں بارآوری (Fertility) کم ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
دائمی درد اور ازدواجی مسائل
پروسٹیٹ کی دائمی سوزش میں بعض افراد کو شرمگاہ، کمر، زیر ناف یا انزال کے دوران درد محسوس ہوتا ہے۔ یہ مسلسل تکلیف ازدواجی تعلقات میں دلچسپی کم کر سکتی ہے اور ازدواجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
ذہنی دباؤ اور اعتماد میں کمی
بار بار پیشاب آنا، رات کو کئی مرتبہ اٹھنا، پیشاب میں رکاوٹ، درد یا جنسی مسائل کی وجہ سے مریض ذہنی دباؤ، بے چینی اور خود اعتمادی میں کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ نفسیاتی عوامل بھی جنسی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ٹموتھی جے ولٹ (Dr. Timothy J. Wilt) امریکہ کے ممتاز معالج، محقق اور یونیورسٹی آف مینیسوٹا سے وابستہ پروفیسر آف میڈیسن ہیں، جنہوں نے پروسٹیٹ کے امراض، خصوصاً خوش خیم پروسٹیٹ کے بڑھ جانے (Benign Prostatic Hyperplasia - BPH) اور پروسٹیٹ کینسر کے علاج پر متعدد اہم تحقیقی مطالعات کیے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق BPH کے علاج کا بنیادی مقصد مریض کی علامات میں بہتری، معیارِ زندگی میں اضافہ اور بیماری کی پیچیدگیوں کو کم کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہلکی علامات والے مریضوں میں طرزِ زندگی میں تبدیلی اور نگرانی مؤثر ہو سکتی ہے، جبکہ درمیانی یا شدید علامات کی صورت میں ادویات، اور ضرورت پڑنے پر سرجری بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ اسی طرح ان کی مشہور PIVOT Trial نے یہ ظاہر کیا کہ ابتدائی مرحلے کے کم خطرے والے پروسٹیٹ کینسر کے ہر مریض کے لیے فوری سرجری ضروری نہیں ہوتی، کیونکہ بعض مریضوں میں محتاط نگرانی (Observation) بھی اتنی ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ خطرے والے مریضوں میں سرجری سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ولٹ کی تحقیق نے دنیا بھر میں پروسٹیٹ کے علاج سے متعلق طبی رہنما اصولوں (Clinical Guidelines) پر نمایاں اثر ڈالا ہے اور علاج کو ہر مریض کی انفرادی حالت کے مطابق منتخب کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
ڈاکٹر اسٹیفن بینٹ (Dr. Stephen Bent) امریکہ کے معروف معالج، محقق اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (UCSF) سے وابستہ ریسرچر ہیں، جنہوں نے پروسٹیٹ کے بڑھ جانے (Benign Prostatic Hyperplasia - BPH) اور خاص طور پر Saw Palmetto پر اہم کلینیکل تحقیق کی۔ ان کی سربراہی میں ہونے والی ایک بڑی Randomized Double-Blind Placebo-Controlled Clinical Trial میں 225 مردوں کا ایک سال تک جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ معیاری خوراک میں استعمال کیا جانے والا Saw Palmetto پیشاب کی علامات، پیشاب کے بہاؤ، پروسٹیٹ کے سائز، معیارِ زندگی یا PSA کی سطح میں پلیسبو (Placebo) کے مقابلے میں کوئی نمایاں بہتری پیدا نہیں کر سکا۔ ڈاکٹر اسٹیفن بینٹ کی اس تحقیق نے اس بات پر زور دیا کہ پروسٹیٹ کے علاج یا سپلیمنٹس کے استعمال سے پہلے مضبوط سائنسی شواہد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور کسی بھی علاج کا انتخاب مستند طبی تحقیق اور معالج کے مشورے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
Type your paragraph here
Prosta Advance
پاک ہربیکس دواخانہ کو ہمیشہ سے یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ ہم نے مرض کی نوعیت کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ مریض کی علامات کی شدت میں کمی لانے اور مریض کو ریلیف دینے کے لیے ہم نے ہمیشہ ریسرچ شدہ قدرتی جڑی بوٹیوں کو اپنی ادویات کا حصہ بنایا ہے۔اسی طرح پروسٹیٹ گلینڈ انلارجمنٹ (BPH) پر ہم نے 28 سال تک مسلسل محنت اور وقت کے ساتھ ساتھ ادویات میں جدت پیدا کی، اور ایسی جڑی بوٹیوں کا انتخاب کیا جن میں قدرتی منرلز جیسے کہ Zinc، Selenium اور قدرتی وٹامنز جیسے کہ Vitamin E، Vitamin D اور Vitamin B6 وغیرہ شامل ہیں۔اس دواء کے لیے ایسی جڑی بوٹیوں کے ایکسٹریکٹ بھی شامل کیے گئے ہیں جو بالخصوص پروسٹیٹ گلینڈ انلارجمنٹ کو ریڈیوس کرنے میں تحقیق شدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس مرض میں ہماری اس دواء کو دیگر ادویات پر ترجیح دیتے ہیں۔ہماری یہ دواء دو مختلف مرکبات پر مشتمل ہے جس میں کیپسولز شامل ہیں جو کہ پروسٹیٹ گلینڈ کو ریڈیوس کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہیں۔ ان کیپسول کی خاص افادیت اور سائیڈ ایفیکٹ فری ہونا یہ ہے کہ یہ پروسٹیٹ گلینڈ کی تمام اسٹیجز پر یکساں مفید ہیں۔
کس طرح کام کرتی ہے؟Prosta Advance
یہ فارمولا متعدد طریقوں سے کام کرتا ہے۔
DHT (وہ ہارمون جو پروسٹیٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے) کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔سوزش میں کمی: پروسٹیٹ کی سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ پیشاب کے بہاؤ میں بہتری: پیشاب کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور بار بار پیشاب آنے کی علامات میں کمی لانے میں مدد کرتا ہے۔غذائی سپورٹ: پروسٹیٹ کے خلیات کی صحت اور مردانہ تولیدی نظام کو غذائی سپورٹ فراہم کرتا ہے۔
پروسٹیٹ کے علاوہ اس کے دیگر فوائد
مردانہ صحت اور تولیدی نظام کی غذائی سپورٹ۔(Testosterone) کی نارمل سطح برقرار رکھنے میں معاون (خاص طور پر کمی کی صورت میں)۔(Erectile Function) اور خون کی روانی کی عمومی سپورٹ۔ہڈیوں، مدافعتی نظام اور جسمانی سوزش میں مددگار۔طاقت، توانائی اور عمومی مردانہ صحت کی سپورٹ۔
